content in urdu

مدینہ منورہ کو اسلامی تہذیب کا پایہ تخت قرار دینے کے اسباب:

تعلیم, سائنس اور تہذیب کی اسلامی تنظیم (ایسیسکو) نے سال 2013 کے لئے مدینہ منورہ کو اسلامی تہذیب کا پایہ تخت منتخب کیا ہے, اس کی ایک وجہ تو وزارت ثقافت کی طرف سے ساتویں اسلامی کانفرس کا یہاں انعقاد ہے, اور اس بھی زیادہ یہ  حجاج وزوار کی آماجگاہ  ہونے کی وجہ سے سارے اسلامی شہروں میں اس کا ایک نمایاں مقام ہے. مدینہ منورہ میں وزارت ثقافت کی شاخ کے مدیر ڈاکٹر صلاح الردادی نے یہ اطلاع دی کہ  اس مناسبت کے لئے آئندہ اعلان ہونے والی سرگرمیوں کو نافذ کرنے کے لئے اعلى کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے.

او ر(شرق اوسط) سے گفتگو میں انہوں نے یہ واضح کیا کہ دو سال پہلے اسلامی ممالک کے وزراء ثقافت واطلاعات کی میٹنگ میں مدینہ منورہ کو اسلامی تہذیب کا پایہ تخت  منتخب کیا گیا.

دوسری طرف ڈاکٹر عبد اللہ عسیلان رئیس نادی ادبی مدینہ منورہ نے بتایا کہ مدینہ منورہ کو اسلامی تہذیب کا پایہ تخت  منتخب کیا جانا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے, چونکہ جب سے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم یہاں آئے اسی وقت سے یہ سارے مسلمانوں اور خاص کر طلبہ کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا ہے.

علم و آگہی کی نشرو اشاعت میں مسجد نبوی کے بھر پور کرداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے خطہ خطہ سے طلبہ یہاں آکر یہاں کے علماء سے علمی فیضان حاصل کرتے ہیں, اس کے ساتھ ہی مدینہ میں بہت سارے ایسے مکتبات ہیں جہاں مخطوطات اور قیمتی کتابوں کا علمی خزانوں موجود ہے.

ساتھ ہی بتایا کہ مدینہ علمی مدارس کی وجہ سے بھی مشہور ہے, اور جو شخص بھی علامہ سخاوی کی کتاب (التحفۃ اللطیفہ فی تاریخ المدینۃ الشریفۃ ) کا مطالعہ کرے گا اس پر یہ چیز اچھی طرح واضح ہو جائے گی.

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کل گورنر مدینہ اور وزیر ثقافت و اطلاعات ایک پریس کانفرنس کریں گے جس میں مدینہ منورہ کے اسلامی ثقافت کی راجدھانی اختیار کے جانے اور اسلامی ممالک کے وزراء ثقافت کے ساتویں کانفرنس کے انقاد کی ابتدائی تیاریوں اور تعارفی پروگراموں پر روشنی ڈالیں گے.

اسلامی تہذیب کی راجدھانی کا پروگرام جسے تعلیم, سائنس اور تہذیب کی اسلامی تنظیم (ایسیسکو) نافذ کرتی ہے اسلامی تہذیب کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے, اور اس کے رکن ممالک کے درمیان تہذیب وتمدن کے آپسی تعاون کا مناسب وسیلہ ہے.

اس کے تحت سالانہ عالم عرب افریقہ اور ایشا کے اسلامی ممالک  کے کسی تین پرانے شہر کا انتخاب عمل میں آتا ہے, اس کے ساتھ ہی ایک کو راجدھانی کا درجہ دیا جاتا ہے جو وزراء ثقافت کی اسلامی کانفرنس کی مہمان نوازی بھی کرتا ہے.

اس پر اتفاق سنہ 2001 میں دوحہ قطر میں منعقد ہونے والی وزراء ثقافت کی تیسری اسلامی کانفرس میں ہوا, اور 2004 میں جزائر میں منعقد ہونے والی وزراء ثقافت کی جوتھی اسلامی کانفرس میں اس کو منظوری دی گئی.   

اس پروگرام کا مقصد اسلامی تہذیب کی اشاعت, اس کےمضامین کی تجدید, اس کے پیغام کی وضاحت , اور جن شہروں نے تہذیب  وثقافت, علوم وفنون, سائنس اور اسلامی تعلیمات کی خدمت انجام دی ہے اسے اسلامی تہذیب کا پایہ تخت قرار دے کر اسکی تہذیبی اور ثقافتی عظمت کو دوام بخشنا. ساتھ ہی تہذیب وتمدن کے انسانی اقدار اور ثقافتی مضامین کو اجاگر کر کے ساری دنیا کے اسلامی تہذیب  کی اصلی شکل پیش کرنا. نیز مختلف تہذیب اور ثقافت کے درمیان گفتگو کو تقویت دینا, اور آج کے ان مشکل حالات میں  جب کہ پوری دنیا   انسانیت کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کے لئے بین الاقوامی برادری سے مکمل کوشش کا مطالبہ کرتی ہے مختلف قوموں  کے درمیان بقائے باہمی اور افہام وتفہیم کے اقدار کو فروغ دینا.

اسی کے تحت سنہ 2005 میں مکہ مکرمہ کو اسلامی تہذیب کا پایہ تخت قرار دیا گیا.

اور 2006 میں عربی ممالک سے حلب, ایشیا سے اصفہان, اور افریقی ممالک سے مالی کےشہر تمبکتو کا انتخاب ہوا.

اسی طرح سنہ 2007 میں عربی ممالک سے لیبیائی شہر طرابلس, ایشیا سے فاس اور طاشقند, اور افریقی ممالک سے داکار کا انتخاب ہوا.

سنہ 2008 میں اسکندریہ, لاہور, اور جیبوتی کو چنا گیا.

سنہ 2009 میں اذربیجان سے پاکو, ملیشیا سے کولالمپور, اور چاڈ سے انجامینا کا انتخاب ہوا.

سنہ 2010 میں یمنی شہر ٹریم, طاجکستانی شہر دو شنبہ, اور جزر القمر سے مورونی کا انتخاب ہوا.

سنہ 2011 کے لئے جزائری شہر تلمسان, موریتانی شہر نواکشط اور انڈونیشی شہر جاکرتہ نیز غینی شہر کوناکری کا انتخاب عمل میں آیا.

2012  کے لئے عرب ممالک سے نجف, نیز ڈھاکہ اور نیامی کو  اسلامی تہذیب کا پایہ تخت قرار دیا گیا.

2013 کے لئے مدینہ منورہ , 2014 کے لئے شارجہ, اور 2015 کے لئے عمان کے نزوی کا انتخاب ہوا.